بنگلورو،26؍جولائی(ایس او نیوز)حکومت کرناٹک کو یہ خدشہ ہیکہ خشک سالی مینجمنٹ2016کی مرکزکی نظرثانی پالیسی سے ریاست کے لئے مرکز کی امداد کم ہوجائے گی۔ اس طرح آئندہ ریاست کے کسانوں کے لئے مشکلات پیداہوسکتے ہیں۔ ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے اپنے خط میں کہا ہے کہ خشک سالی سے متعلق مرکز کے سخت ضابطوں سے ریاستی حکومت کیلئے مشکل پیدا ہوگی۔ جن تعلقہ جات میں بھاری پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے ، ان تعلقہ جات کے ساتھ انصاف کرنا مشکل ہوجائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ خشک سالی سے متعلق وزارت زراعت اور بہبود کسان نے جو مسودہ جاری کیاہے اس سے حریف 2017بھی متاثر ہوگا۔ اس لئے اس مسودہ میں ضروری تبدیلیاں کرنے کی انہوں نے وزیراعظم مودی سے درخواست کی ہے کسانوں کی فصلوں کے نقصان کیلئے قومی آفات فنڈ سے سبسیڈی جاری کرنے کی انہوں نے درخواست کی خشک سالی متاثرین کے لئے امداد جاری کرنے جو اہمیت اور معیاد مقررتھا اس میں تبدیلیاں کروائی گئی ہیں اس سے ظاہر ہے کہ اس معیار اور اہلیت سے ریاستی حکومت کے لئے مشکلات پیداہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ مرکز نے جو نئے ضابطے مقرر کئے ہیں۔ اس سے شدید متاثرہ تعلقہ جات کی مددکرنا مشکل ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے آئندہ مرکز سے جاری ہونے والی امداد کم ہوجائے گی، اس سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
کرناٹک کو قحط سالی کا سامنا:۔وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ آئے دنوں ریاست کرناٹک کو وقتاً فوقتاً سخت خشک سالی کا سامنا ہے۔ راحتی کاموں کے لئے این ڈی آر ایف کے تحت مرکزی حکومت سے جاری کی جانے والی امداد ناکافی ہے اور حکومت کو اس مد میں افزود رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ سنا ہے کہ مرکز کی نظرثانی پالیسی کے تحت صرف وہ تعلقہ جات جو خشک سالی سے شدید متاثر ہوئے ہیں انہیں این ڈی آر ایف کے زمرہ میں لایاجائے گا۔ حالانکہ چھوٹے اور درمیانی سطح کے کسان بھی خشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں اگر نئے ضابطوں پر عمل ہوا تو وہ تمام راحتی فنڈ سے محروم ہوجائیں گے۔وزیراعظم مودی کو لکھے وزیراعلیٰ سدارامیا کے خط کی تفصیلات نامہ نگاروں کو بتاتے ہوئے ریاستی وزیر برائے قانونی وامور پالیمان ٹی بی جئے چندرا نے کہا کہ آج ریاستی کابینہ اجلاس میں اس معاملہ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔رواں سال میں کرناٹک کے160تعلقہ جات کو سخت خشک سالی سے متاثرہ قرار دیاگیاہے۔ اگر ہم مرکز کے نئے ضابطوں پر عمل کریں گے تو صرف38تعلقہ جات امداد کے اہل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے ضابطوں پر عمل سے کرناٹکا بری طرح متاثر ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ خشک سالی متعلق پچھلے قوانین میں بارش کی کمی اور دیگر قدرتی آفات بھی شامل تھے۔ لیکن اب یہ کہاگیاہے کہ بارش کی کمی50فیصد یااس سے زیادہ ہونی چاہئے۔ خشک سالی سے متعلق نئے ضابطے مقرر کرنے پر مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ اس تعلق سے ان کی حکومت کرناٹک کے تمام ارکان پارلیمان کو بھی خطوط لکھے گی۔ اگر ضرورت پڑے تو ایک وفد وزیراعظم سے بھی ملاقات کرے گا۔